بھٹکل 2 مارچ (ایس اؤ نیوز) ہیبلے گرام پنچایت حدود کے جامعہ آباد مین روڈ کے دونوں کناروں پر کچرا، پلاسٹک سے بھرا گندگی کا ڈھیر دیکھا جاسکتاہے۔ مین روڈ پر نظر دوڑائیں تو قریب 300میٹر تک جہاں تہاں کچرا ہی کچرا نظر آئے گا ۔ پچھلے دو ماہ سے کچرا نکاسی نہ کئےجانےکی بنا پر راستے کے دونوں کنارے کچرا یوں ہی پڑے رہنے سے مکینوں کا جینا دوبھر ہوگیا ہے کچروں کی بھرمار کی وجہ سے سواروں کو روڈ سے گزرنا بھی محال ہوگیا ہے۔
یا درہے کہ حکومتیں گزشتہ دوچار برسوں سے سوچھ بھارت کے نام پر میونسپالٹی، پٹن پنچایت اور گرام پنچایت میں مختلف پروگراموں کا انعقاد کرتےہوئے عوام میں بیداری پیدا کرتی رہی ہے۔لیکن جامعہ آباد کے روڈ کو دیکھیں تو محسوس ہوتاہے کہ بیداری پروگراموں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔
بظاہر گرام پنچایت سے لےکر میونسپالٹی تک سبھی مقامی ادارے صاف صفائی کو ترجیح دیتے رہتےہیں، مگر اس سلسلےمیں پنچایت کے افسران اور عوامی نمائندے کہاں تک بیدار ہیں کتنی سرگرمی سے کام کرتے ہیں اہمیت رکھتاہے۔اسے افسران اور عوامی نمائندوں کی غفلت کہیں یا ان کی غیر ذمہ داری کہیں، کرناٹک کے سب سے بڑے مدرسہ کی طرف جانے والے سڑک کے دونوں کناروں پر 300میٹر تک پھیلے ہوئے کچرے کا ڈھیر اس بات کا ثبوت ہے کہ صفائی کو کتنی ترجیح دی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ بعض جگہوں پر کچرے کو جمع کرکے آگ لگانےسے ماحول میں آلودگی کا سبب بننے کی طرف بھی ماہرین اشارہ کررہےہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ کچروں کا ڈھیر صرف مسلم علاقوں میں نظر آتا ہے، دیگر علاقوں میں کچروں کو ٹھکانے لگانے کا انتظام کہاں کیا گیا ہے اور وہاں صفائی ستھرائی کو لے کر کس طرح کے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں اُس تعلق سے جانکاری نہیں مل پائی ہے، البتہ اس تعلق سے ہیلے پنچایت کے ایک ممبر نے بتایا کہ جامعہ آباد روڈ پر بھی جو کچرہ سڑکوں کے دونوں کنارے نظر آتا ہے، وہ کچرا متعلقہ علاقہ کے مکینوں کا نہیں ہے، بلکہ میونسپل اور پٹن پنچایت علاقہ کے عوام تھیلوں میں بھر بھر کر کچروں کو وہاں لے جاکر پھینکتے ہیں، ان کے مطابق متعلقہ علاقہ کے مکینوں کے لوگ بھی کچرہ پھینکتے ہوں گے، مگر وہ اتنا زیادہ نہیں رہے گا، البتہ دوسرے علاقہ کے لوگوں کا کچرہ وہاں بہت بڑی مقدار میں پھینکا جارہا ہے، جس کی روک تھام ضروری ہے۔
اُدھر یہ بات بھی اہم ہے کہ میونسپالٹی اور پنچایت حدود میں گھر گھر کچرا جمع کرکے اُس کی نکاسی کی جاتی ہے، صبح سویرے کچروں کی گاڑی میونسپل اور پٹن پنچایت حدود میں پہنچتی ہے اور کچروں کو گھر گھر سے لے جاتی ہے، البتہ وقت مقررہ پر اگر کوئی اپنے گھر کا کچرہ گاڑی والوں کو نہیں دے پاتے تو وہ لوگ اپنا کچرہ سڑک کنارے پھینک سکتے ہیں۔لیکن ہیبلے گرام پنچایت کے حدود میں گھر گھر پہنچ کر کچروں کو لے جانے کا کام نہیں ہورہا ہے کیونکہ ہیبلے پنچایت کے پاس ابھی تک کچروں کی ذخیرہ اندوزی کرنے اور اسے ٹھکانے لگانے کےلئے کوئی جگہ متعین نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے ہیبلے علاقے کے مختلف جگہوں پر اور مین روڈ پر کچروں کا انبار دیکھا جاتارہاہے۔ ایسے میں اتنا عرصہ گذرنے کے باوجود ہیبلے پنچایت کی طرف سے کچرانکاسی کے لئے مناسب انتظام نہ کئے جانےپر مقامی عوام سخت ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں۔
علاقے کی گندگی اور کچروں کے ڈھیر کے متعلق مدینہ ویلفئیر سوسائٹی بھٹکل کے سکریٹری مولانا سید عرفان ندوی کا کہنا ہے کہ پچھلے کئی برسوں سے ہیبلے حدود میں کچرا نکاسی ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔ افسوس کہ خود پنچایت بھی اس طرف خاطرخواہ توجہ نہیں دیتی ۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر کچروں کے ڈھیرسے علاقے کے لوگوں کی صحت متاثر ہوتی ہے تو اس کا ذمہ دارکون ہے ؟ ان کا کہنا ہے کہ پنچایت کی طرف سے اگر گھر گھر کچرا جمع کرکے لے جانے کا انتظام ہوجاتاہے تو راستوں کے کنارے کوئی بھی کچرا نہیں پھینکے گا۔ جب کہ پنچایت کو کچرا جمع کرنے کے لئے سواری بھی فراہم کی گئی ہے۔
افسران کا دکھڑا:جہاں ایک طرف سڑک کنارے کچروں کا ڈھیر جمع ہورہاہے تو پنچایت کے افسران کچرانکاسی کو لےکر حل تلاش کرنےمیں بھی مصروف ہیں۔ ہیبلے پنچایت کو وویمنس سنٹر بھٹکل کی طرف سے کچرانکاسی کے لئے ایک سواری بھی دی گئی ہے۔ لیکن کچروں کو ٹھکانے لگانے کے لئے کہاں ذخیرہ کیا جائے یہ افسران کے لئےسردر د بن گیا ہے۔ پچھلے دنوں ہیبلے کے ایک شخص کی ذاتی زمین پر کچرا جمع کیا جاتاتھا ، جب یہاں مسائل پیدا ہوئے تو کچرا ذخیرہ اندوزی کے لئے کوئی موقع نہیں رہا ہے، جس کے بعدسے ہی کچرانکاسی بڑا سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔
کچرانکاسی مرکز کے لئے تکرار: ہیبلے پنچایت کی پی ڈی اؤ جینتی نائک نے معاملے کو لےکر جاری کاموں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ جامعہ آباد علاقےکے کچرانکاسی کا مسئلہ لےکر پنچایت کے افسران نے تعلقہ پنچایت افسران کے توسط سے اعلیٰ افسران کی توجہ مبذول کرائی ہے،یہی وجہ ہے کہ کچرا نکاسی مرکز کی تعمیر کےلئے رقم منظور ہوئی ہے اور ٹینڈر کاکام باقی ہے۔ مگر اس دوران کچرا نکاسی مرکز پہنچنے کے لئے سڑک کی تعمیر کاکام بھی جاری ہے مگر ایسے میں مقامی عوام نے ہی کچرانکاسی مرکز کی تعمیر کو لےکر اعتراض جتایا ہے۔ جینتی نائک کے مطابق 6ماہ پہلے ہیبلے حدود کے ہورکوڈلو نامی جگہ پر سروے نمبر 361پر 10گنٹہ زمین کا تعین کیاگیا تھا۔ کچھ ماہ بعد کچرانکاسی کا مستقل حل نکل جاتا، لیکن مقامی عوام کا تعاون حاصل نہ ہونےکی بنا پر کام آگے نہیں بڑھ پایا ہے۔ جینتی نائک نے بتایا کہ معاملےکو لے کر تعلقہ پنچایت افسر کو جانکاری دی گئی ہے۔ اب اعلیٰ افسران کی طرف سے کیا حکم ملتا ہے دیکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر علاقہ کے عوام اس تعلق سے پنچایت کے ساتھ تعاون کریں اور مسئلہ بالخصوص کچروں کو ٹھکانے لگانے کے تعلق سے جس جگہ کے لوگ اعتراض اُٹھارہے ہیں، اس کے حل کے لئے اپنی جانب سے بھی کوشش کریں تو جینتی نائک نے یقین دلایا کہ بہت جلد مسئلہ کو حل کیا جاسکتا ہے۔